Sunday, 18 July 2021

کاش چہروں پہ لگے خول اتارے جاتے

 کاش چہروں پہ لگے خول اُتارے جاتے

کتنے معصوم تو بے جُرم نہ مارے جاتے

ہم نے بے پرد کیے کتنے بھیانک چہرے

کیوں نہ ہم شہر میں غدار پُکارے جاتے

مر گئے ہیں تو یہ اچھا ہوا ورنہ ہم بھی

کسی چوراہے پہ بے رحمی سے مارے جاتے

ہم نے ہر دور کے فرعون کو للکارا ہے

کیوں نہ ہر ظُلم کی سُولی سے گزارے جاتے

کُند ذہنوں میں جو بھرتے رہے نفرت کی آگ

ان کی خواہش تھی بہت دور شرارے جاتے

مار ڈالے گا زمانہ یہی کہہ کر مجھ کو

زِندہ رہ جاتا تو ایمان سے سارے جاتے

ہم نے باقر نہیں سیکھا تھا خوشامد کرنا

ورنہ اوروں کی طرح بھاگ سنوارے جاتے


مرید باقر انصاری

No comments:

Post a Comment