Sunday, 18 July 2021

قطرہ قطرہ یہاں اترتی شام

 قطرہ قطرہ یہاں اترتی شام

درد کیوں دل میں جائے بھرتی شام

گر نہ پیتی تمہاری یاد کا زہر

روز جیتی نہ روز مرتی شام

پھر جنازے پہ سرخ سورج کے

بال بکھرائے بین کرتی شام

سایۂ شب میں چھپ کے بیٹھ گئی

اپنی ویرانیوں سے ڈرتی شام

تھم گئی جب سے انتظار کی نبض

سرد سی پڑ گئی ٹھٹھرتی شام


ظل ہما

No comments:

Post a Comment