قطرہ قطرہ یہاں اترتی شام
درد کیوں دل میں جائے بھرتی شام
گر نہ پیتی تمہاری یاد کا زہر
روز جیتی نہ روز مرتی شام
پھر جنازے پہ سرخ سورج کے
بال بکھرائے بین کرتی شام
سایۂ شب میں چھپ کے بیٹھ گئی
اپنی ویرانیوں سے ڈرتی شام
تھم گئی جب سے انتظار کی نبض
سرد سی پڑ گئی ٹھٹھرتی شام
ظل ہما
No comments:
Post a Comment