Monday, 19 July 2021

میں کیسے جھیل سکوں گا بنانے والے کا دکھ

 میں کیسے جھیل سکوں گا بنانے والے کا دکھ

چھری چھری پہ لکھا ہے لگانے والے کا دکھ

غضب کی آنکھ اداکار تھی مگر ہائے

تمہاری بات ہنسی میں اڑانے والے کا دکھ

غزل میں درد کی پہلے بھی کچھ کمی نہیں تھی

اور اس پہ ہو گیا شامل سنانے والے کا دکھ

تجھے تو دکھ ہے فقط اپنی لا مکانی کا

قیام کر تو کھلے گا ٹھکانے والے کا دکھ

بدن کے چیتھڑے اڑتے کہیں ہواؤں میں

سنانے والے سے کم تھا چھپانے والے کا دکھ

زمانے عشق کی تفہیم تو ذرا کرنا

بے روزگار بتائے کمانے والے کا دکھ

گرانے والے کے احساس میں نہیں قیصر

یہ آسماں کو زمیں پر اٹھانے والے کا دکھ


زبیر قیصر

No comments:

Post a Comment