جلا کے آنکھیں سیاہ شب کو کھنگالنا ہے
اسی اندھیرے سے ہم کو سورج نکالنا ہے
جو باقی چیزیں ہیں وہ تو میں سب سنبھال لوں گا
تمہیں یہ کرنا ہے؛ صرف مجھ کو سنبھالنا ہے
شکست جس کا نصیب ہو گی کچھ اس کا سوچو
تمہارا کیا ہے؟ تمہیں تو سِکہ اچھالنا ہے
وہ سنگ دل ہے مگر اسے موم کر رہا ہوں
انہیں چٹانوں سے مجھ کو دریا نکالنا ہے
وہی گلی جس کی ہم کبھی خاک چھانتے تھے
ستم تو یہ ہے، اسی پہ اب خاک ڈالنا ہے
معین شاداب
No comments:
Post a Comment