Saturday, 5 December 2020

جلا کے آنکھیں سیاہ شب کو کھنگالنا ہے

 جلا کے آنکھیں سیاہ شب کو کھنگالنا ہے

اسی اندھیرے سے ہم کو سورج نکالنا ہے

جو باقی چیزیں ہیں وہ تو میں سب سنبھال لوں گا

تمہیں یہ کرنا ہے؛ صرف مجھ کو سنبھالنا ہے

شکست جس کا نصیب ہو گی کچھ اس کا سوچو

تمہارا کیا ہے؟ تمہیں تو سِکہ اچھالنا ہے

وہ سنگ دل ہے مگر اسے موم کر رہا ہوں

انہیں چٹانوں سے مجھ  کو دریا نکالنا ہے

وہی گلی جس کی ہم کبھی خاک چھانتے تھے

ستم تو یہ ہے، اسی پہ اب خاک ڈالنا ہے


معین شاداب

No comments:

Post a Comment