پھر انتشار اسی انہماک سے آیا
کسی کا بھولا تصور چھپاک سے آیا
بلایا ہم نے تو آیا نہ منتوں سے بھی
جو خود کو کام پڑا تو جھپاک سے آیا
وہ آسمانوں سے اتریں تو ہم بتائیں انہیں
بلندیوں کا ہنر ہم کو خاک سے آیا
یہ ہوش مندی کسی کام کی نہیں نکلی
اجالا سارا گریباں کے چاک سے آیا
معین شاداب
No comments:
Post a Comment