Saturday, 5 December 2020

بہ تسخیر بتاں تسبیح کیوں زاہد پھراتے ہیں

 بہ تسخیر بتاں تسبیح کیوں زاہد پھراتے ہیں

یہ لوہے کے چنے واللہ! عاشق ہی چباتے ہیں

بنی ہے جوں گُہر صورت سخن کی اہل معنی سے

یہ ناداں کہنے سننے کو عبث باتیں بناتے ہیں

سدا سے عشق کی لَے بھر رہی ہے جن کے کانوں میں

وہ کب سنتے ہیں یہ ناصح! جو اپنا راگ گاتے ہیں

بہار آئی نہ چھُوٹے ہم قفس سے ہم صفیر اپنے

چمن میں چہچہے کرتے ہیں اور دُھومیں مچاتے ہیں

صبا کس گُل کے آنے کی خوشی ایسی ہے گُلشن میں

کہ گُل جامے میں آج اپنے نہیں پھُولے سماتے ہیں

ہنساتے ہیں تجھے ساکن چمن کے کس خوشامد سے

کہ بلبل ہے غزل خواں، چُٹکیاں غُنچے بجاتے ہیں

ہم اپنے دل کی حالت کیا کہیں بِن موت مرتے ہیں

تجھے ٹک دیکھ لیتے ہیں تو گویا جان پاتے ہیں

گریباں کا ہمارے ناصحا! موقوف کر سِینا

کہ ہم سینے کا اپنے زخم کاری کب سِلاتے ہیں

تماشا شیخ جی کے حال کا ہے تحفہ مجلس میں

زنبوری ہیں مرید اور چوک میں بندر نچاتے ہیں

دلوں کے آئینے اب بن گئے ہیں سنگ و آہن کے

کہ مل کر جی میں جگہ دیں، بچھڑ کر بھول جاتے ہیں

بہت مارے گئے واں اور بہت زخمی ہوئے تس پر

محب کوچے میں اس کے آج ہم پھر دل جلاتے ہیں


ولی اللہ محب

No comments:

Post a Comment