جب لے کے ہتھیلی پر ہم جان نکلتے ہیں
ظلمت میں اجالوں کے امکان نکلتے ہیں
پھر لے کے حساب دل پچھتانا پڑا اس کو
کچھ اس پہ ہمارے ہی احسان نکلتے ہیں
یہ شہر رہا ہو گا شائستہ مزاجوں کا
اس شہر کے ملبے سے گلدان نکلتے ہیں
اے اہلِ نظر تیرے خطبات پہ بھاری ہیں
دیوانے کے منہ سے جو ہذیان نکلتے ہیں
معین شاداب
No comments:
Post a Comment