Thursday, 9 December 2021

جب لے کے ہتھیلی پر ہم جان نکلتے ہیں

 جب لے کے ہتھیلی پر ہم جان نکلتے ہیں

ظلمت میں اجالوں کے امکان نکلتے ہیں

پھر لے کے حساب دل پچھتانا پڑا اس کو

کچھ اس پہ ہمارے ہی احسان نکلتے ہیں

یہ شہر رہا ہو گا شائستہ مزاجوں کا

اس شہر کے ملبے سے گلدان نکلتے ہیں

اے اہلِ نظر تیرے خطبات پہ بھاری ہیں

دیوانے کے منہ سے جو ہذیان نکلتے ہیں


معین شاداب

No comments:

Post a Comment