Thursday, 9 December 2021

لو میں نے قلم کو دھو ڈالا

 خاموشی


لو میں نے قلم کو دھو ڈالا

لو میری زباں پر تالا ہے

لو میں نے آنکھیں بند کر لیں

لو پرچم سارے باندھ لیے

نعروں کو گلے میں گھونٹ دیا

احساس کے تانے بانے کو

پھر میں نے حوالے دار کیا

اس دل کی کسک کو مان لیا

ایک آخری بوسہ دینا ہے

اور اپنے لرزتے ہاتھوں سے

خنجر کے حوالے کرنا ہے

لو میں نے قلم کو دھو ڈالا

لو میری زباں پر تالا ہے

الزام یہ آید تھا مجھ پر

ہر لفظ مِرا ایک نشتر ہے

جو کچھ بھی لکھا جو کچھ بھی کہا

وہ دیش ورودھی باتیں تھیں

اور حکم کیا تھا یہ صادر

تہذیب کے اس گہوارے کو

جو میری نظر سے دیکھے گا

وہ اک ملزم کہلائے گا

لو میں نے قلم کو دھو ڈالا

لو میری زباں پر تالا ہے

جو عشق کے نغمے گائے گا

جو پیار کی بانی بولے گا

جو بات کہے گا گیتوں میں

جو آگ بجھانے اٹھے گا

جو ہاتھ جھٹک دے قاتل کا

وہ اک مجرم کہلائے گا

لو میں نے قلم کو دھو ڈالا

لو میری زباں پر تالا ہے

خاموش ہوں میں سناٹا ہے

کیوں سہمے سہمے لگتے ہو

ہر ایک زباں پر تالا ہے

کیوں سہمے سہمے لگتے ہو

لو میں نے قلم کو دھو ڈالا

لو میری زباں پر تالا ہے

ہاں سناٹے کی گونج سنو

ہیں لفظ وہی انداز وہی

ہر ظالم جابر ہر قاتل

اس سناٹے کی زد پر ہے

خاموشی کو خاموش کرو

یہ بات تمہارے بس میں نہیں

خاموشی تو خاموشی ہے

گر پھیل گئی تو پھیل گئی


گوہر رضا

No comments:

Post a Comment