Thursday, 9 December 2021

کون کہتا ہے زمانے کے لئے زندہ ہوں

 کون کہتا ہے زمانے کے لیے زندہ ہوں

میں تو بس آپ کو پانے کے لیے زندہ ہوں

آپ فرمائیں ستم شوق سے پھر بھی میں تو

آپ کے ناز اٹھانے کے لیے زندہ ہوں

کون اس دور میں ہوتا ہے کسی کا ساتھی

زندگی تجھ کو نبھانے کے لیے زندہ ہوں

جو تِرے پیار کا صدیوں سے ہے واجب مجھ پر

ہاں وہی قرض چکانے کے لیے زندہ ہوں

حاکمِ وقت نے جو آگ لگائی ہے یہاں

میں وہی آگ بجھانے کے لیے زندہ ہوں

جو ترقی پہ نئے لوگوں کی جلتے ہیں انا

میں انہیں ہوش میں لانے کے لیے زندہ ہوں


انا دہلوی

No comments:

Post a Comment