Thursday, 9 December 2021

زہر میں بجھے سارے تیر ہیں کمانوں پر

 زہر میں بجھے سارے تیر ہیں کمانوں پر

موت آن بیٹھی ہے جا بجا مچانوں پر

ہم برائی کرتے ہیں ڈوبتے ہوئے دن کی

تہمتیں لگاتے ہیں جا چکے زمانوں پر

اس حسین منظر سے دکھ کئی ابھرنے ہیں

دھوپ جب اترنی ہے برف کے مکانوں پر

شوق خود نمائی کا انتہا کو پہنچا ہے

شہرتوں کی خاطر ہم سج گئے دکانوں پر

کس طرح ہری ہوں گی اعتماد کی بیلیں

جب منافقت سب نے اوڑھ لی زبانوں پر


اکرام مجیب

No comments:

Post a Comment