Tuesday, 20 July 2021

وہ سانحہ ہوا تھا کہ بس دل دہل گئے

 وہ سانحہ ہوا تھا کہ بس دل دہل گئے

اک شب میں سارے شہر کے چہرے بدل گئے

نیرنگئ نظر پسِ آئینہ خوب تھی

باہر نکل کے دیکھا تو منظر بدل گئے

مٹی میں ماہتاب کی خوشبو کا بھید تھا

کس جستجو میں ہم لبِ بام ازل گئے

باراں کی التجاؤں میں وقفِ دعا تھے جو

پیڑوں کے ہاتھ دھوپ کی زد میں پگھل گئے

گھلنے لگی ہیں جیسے رگِ جاں میں ٹھنڈکیں

کیا دیکھتے ہی دیکھتے موسم بدل گئے


ذوالفقار تابش

No comments:

Post a Comment