نظم رو پڑی
میں نے سوچا لکھوں
اپنے دل کی تھکن
اور بتاؤں اسے
اس کی فرقت کی گلیوں کا تنہا سفر
میں نے کیسے کیا
خواب بھٹکا کئے مدتوں در بدر
نیند کا لمس مجھ کو ملا ہی نہیں
سانس احساس کا بار ڈھوتی ہوئی
ریت ہوتی گئی
میں نے چاہا کہ اک ایک پَل کی دُکھن
نظم لکھ کر کہوں
جوڑی ہمت مگر
آخری حرف پر
نظم خود رو پڑی
سحر علی
No comments:
Post a Comment