Tuesday, 20 July 2021

آخری حرف پر نظم خود رو پڑی

 نظم رو پڑی


میں نے سوچا لکھوں

اپنے دل کی تھکن

اور بتاؤں اسے

اس کی فرقت کی گلیوں کا تنہا سفر

میں نے کیسے کیا

خواب بھٹکا کئے مدتوں در بدر

نیند کا لمس مجھ کو ملا ہی نہیں

سانس احساس کا بار ڈھوتی ہوئی

ریت ہوتی گئی

میں نے چاہا کہ اک ایک پَل کی دُکھن

نظم لکھ کر کہوں

جوڑی ہمت مگر

آخری حرف پر

نظم خود رو پڑی


سحر علی

No comments:

Post a Comment