Tuesday, 20 July 2021

اسے مٹی ہی رہنے دو

 اسے مٹی ہی رہنے دو


میری فقط ایک ہی صدا پر

یہ قصر شاہی لرز رہے ہیں

انہیں یہ ڈر ہے کہ

گنگ ذہنوں، جمی زبانوں کو کوئی اذنِ سخن نہ دے دے

قسم خدا کی

افق سے جب تک نہ نور ابھرے

میں تیرگی سے ہر ایک سرحد پہ 

روشنی کی دلیل بن کر ڈٹی رہوں گی

ڈٹی رہوں گی

اگر جو دل بنایا تو ہزاروں خواہشیں بن کر 

تمہیں تم سے ہی مانگے گی

عطائے خلعت احمر اسے خود سر بنا دے گی

وہاں اپنی محبت کا جو نادر تاج پہنایا

خدا خود کو ہی سمجھے گی

ابھی بھی وقت ہے مانو

ارادہ ملتوی کر دو

اسے مٹی ہی رہنے دو

اسے مٹی ہی رہنے دو


صفیہ چوہدری

صفیہ چودھری

No comments:

Post a Comment