اسے مٹی ہی رہنے دو
میری فقط ایک ہی صدا پر
یہ قصر شاہی لرز رہے ہیں
انہیں یہ ڈر ہے کہ
گنگ ذہنوں، جمی زبانوں کو کوئی اذنِ سخن نہ دے دے
قسم خدا کی
افق سے جب تک نہ نور ابھرے
میں تیرگی سے ہر ایک سرحد پہ
روشنی کی دلیل بن کر ڈٹی رہوں گی
ڈٹی رہوں گی
اگر جو دل بنایا تو ہزاروں خواہشیں بن کر
تمہیں تم سے ہی مانگے گی
عطائے خلعت احمر اسے خود سر بنا دے گی
وہاں اپنی محبت کا جو نادر تاج پہنایا
خدا خود کو ہی سمجھے گی
ابھی بھی وقت ہے مانو
ارادہ ملتوی کر دو
اسے مٹی ہی رہنے دو
اسے مٹی ہی رہنے دو
صفیہ چوہدری
صفیہ چودھری
No comments:
Post a Comment