میں دشت زاد گریزاں ہوں اپنے گھر سے بھی
پر اب کی بار تو رغبت نہیں سفر سے بھی
کسی کا ٹوٹا ہوا عہد یاد ہے اب تک
میں سہم جاتا ہوں اب حرفِ معتبر سے بھی
سو عیب مجھ میں نکل آئے بس اسی باعث
میں خود کو دیکھ رہا ہوں تِری نظر سے بھی
ہے کون جو مِری آنکھوں کو آ کے پرسہ دے
جو مطمئن نہ ہوئیں خوابِ خوش نظر سے بھی
اِدھر تو خیر مِرے کچھ نہ کچھ مراسم ہیں
مگر میں موردِ الزام ہوں اُدھر سے بھی
ہمارے بخت کی تاریکی جانے والی نہیں
کسی چراغ و نموداریِ سحر سے بھی
ساون شبیر
No comments:
Post a Comment