Tuesday, 20 July 2021

میں دشت زاد گریزاں ہوں اپنے گھر سے بھی

 میں دشت زاد گریزاں ہوں اپنے گھر سے بھی

پر اب کی بار تو رغبت نہیں سفر سے بھی

کسی کا ٹوٹا ہوا عہد یاد ہے اب تک

میں سہم جاتا ہوں اب حرفِ معتبر سے بھی

سو عیب مجھ میں نکل آئے بس اسی باعث

میں خود کو دیکھ رہا ہوں تِری نظر سے بھی

ہے کون جو مِری آنکھوں کو آ کے پرسہ دے

جو مطمئن نہ ہوئیں خوابِ خوش نظر سے بھی

اِدھر تو خیر مِرے کچھ نہ کچھ مراسم ہیں

مگر میں موردِ الزام ہوں اُدھر سے بھی

ہمارے بخت کی تاریکی جانے والی نہیں

کسی چراغ و نموداریِ سحر سے بھی


ساون شبیر

No comments:

Post a Comment