خبر نہیں ہے کہ کب تک حیات ٹھہرے گی
تمہاری یاد مگر ساتھ ساتھ ٹھہرے گی
تم اپنے ساتھ اُجالے سحر کے لے جاؤ
ہمارے ساتھ یہ تاریک رات ٹھہرے گی
وہ جب بھی پوچھیں گے احولِ زندگی یارب
تو کہتے کہتے لبوں پر وہ بات ٹھہرے گی
غلامِ خواہشِ بے جا اگر نہ ہو آدم
تِرے حضور مشرّف یہ ذات ٹھہرے گی
چلو کہ دشت کی خاموشیوں میں بیٹھتے ہیں
کسی کی یاد کی خوشبو تو سات ٹھہرے گی
عجب لگا ہے نگاہوں کا سوکھنا یا رب
یقیں نہ تھا کہ یہ موجِ فرات ٹھہرے گی
یہ کم نہیں ہے کہ کچھ دیر کے لیے صادق
تِرے جنازے پہ اُن کی برات ٹھہرے گی
ولی صادق
No comments:
Post a Comment