Tuesday, 20 July 2021

کبھی دیکھو تو موجوں کا تڑپنا کیسا لگتا ہے

کبھی دیکھو تو موجوں کا تڑپنا کیسا لگتا ہے

یہ دریا اتنا پانی پی کے پیاسا کیسا لگتا ہے

ہم اس سے تھوڑی دوری پر ہمیشہ رک سے جاتے ہیں

نہ جانے اس سے ملنے کا ارادہ کیسا لگتا ہے

میں دھیرے دھیرے ان کا دشمن جاں بنتا جاتا ہوں

وہ آنکھیں کتنی قاتل ہیں وہ چہرہ کیسا لگتا ہے

زوال جسم کو دیکھو تو کچھ احساس ہو اس کا

بکھرتا ذرہ ذرہ کوئی صحرا کیسا لگتا ہے

فلک پر اڑتے جاتے بادلوں کو دیکھتا ہوں میں

ہوا کہتی ہے مجھ سے یہ تماشا کیسا لگتا ہے


عبدالحمید

No comments:

Post a Comment