Monday, 19 July 2021

گردشِ دوراں نے اس کو ایک ہی تھپڑ جڑا

 ایک سر پھری نظم


گردشِ دوراں نے اس کو

ایک ہی تھپڑ جڑا

چِھن گئی پھر ہنسی ساری

اس کے لب و رُخسار سے

 عشق کا سارا نشہ

اتر گیا یکبارگی

دل کو لے کے بیٹھ گیا تھا

اور عقل ٹھکانے آ گئی


ارشد خالد

No comments:

Post a Comment