Friday, 18 September 2020

تیرے غصے سے اندازہ ہوا ہے

 تیرے غصے سے اندازہ ہوا ہے

تُو اندر سے بہت سہما ہوا ہے

جسے دیکھو چلا آتا ہے ملنے

مجھے لوگوں نے کیا سمجھا ہوا ہے

یہی کہہ کر میں سمجھاتا ہوں دل کو

چلو جو بھی ہوا، اچھا ہوا ہے

نہیں ہے زخم بھی کوئی بدن پر

زمیں پر خون بھی پھیلا ہوا ہے

میں کس کس کو سمیٹوں حوصلہ دوں

جسے دیکھو وہی بکھرا ہوا ہے

گماں ہوتا ہے ہر منزل پہ مجھ کو

یہ منظر بھی میرا دیکھا ہوا ہے

اسے تو زخم بھی بوسہ لگے گا

بدن جو لمس کو ترسا ہوا ہے

جسے سب کو ملانے کی پڑی ہے

وہ اپنے آپ سے بچھڑا ہوا ہے

مسافر سے کھلے گا بادباں کیا

کنارے پر کوئی ٹھہرا ہوا ہے

نہیں میں کوئی چارہ گر نہیں ہوں

تمہیں شاید کوئی دھوکہ ہوا ہے


ساجد رحیم

No comments:

Post a Comment