دِیا ہوتا کسی کو دل تو ہوتی قدر بھی دل کی
حقیقت پوچھئے جا کر کسی بسمل سے بسمل کی
فروغِ حسنِ جاناں سے بڑھی زینت جو محفل کی
تجلی دستِ حسرت مل رہی تھی ماہِ کامل کی
پتنگوں کی طرح اڑنے لگی چنگاریاں دل کی
خدا جانے کہاں لے جائے گی وحشت میرے دل کی
میں خود گم کردہ منزل ہوں خبر کیا مجھ کو منزل کی
نہ نکلی ہے نہ نکلے گی کبھی حسرت میرے دل کی
سحر ہونے کو ہے فریاد ہے یہ شمع محفل کی
الٰہی جلنے والوں کے تو دل میں رہ گئی دل کی
حفاظت اپنے امکاں تک تو میں نے خوب کی دل کی
رکھی برسوں تلک جیسی بھی تھی اچھی بری دل کی
مگر افسوس کیسی آ گئی بد قسمتی دل کی
ہوئی بھی تو ہوئی اس بے وفا سے دل لگی دل کی
ملا کر خاک میں جس نے خبر تک بھی نہ لی دل کی
کہاں سے لاؤں وہ دل وہ کلیجا وہ زباں بیدم
جو اس اجڑے ہوئے دل کا کہوں افسانائے پُر غم
کبھی آبادیاں تھی اس میں اب تو ہُو کا ہے عالم
ادا و ناز چشمِ شوخیٔ اور گیسوئے پُر خم
انہِیں غارت گروں نے مل کے بستی لوٹ لی دل کی
بیدم شاہ وارثی
No comments:
Post a Comment