Friday, 18 September 2020

بے خود کیے دیتے ہیں انداز حجابانہ​

 بے خود کیے دیتے ہیں اندازِ حجابانہ​

آ دل میں تجھے رکھ لوں اے جلوۂ جانانہ​

کیوں آنکھ ملائی تھی کیوں آگ لگائی تھی​

اب رخ کو چھپا بیٹھے کر کے مجھے دیوانہ​

اتنا تو کرم کرنا اے چشمِ کریمانہ​

جب جان لبوں پر ہو تم سامنے آ جانا​

اب موت کی سختی تو برداشت نہیں ہوتی​

تم سامنے آ بیٹھو دم نکلے گا آسانہ​

دنیا میں مجھے اپنا جو تم نے بنایا ہے​

محشر میں بھی کہہ دینا یہ ہے مرا دیوانہ​

جاناں تجھے ملنے کی تدبِیر یہ سوچِی ہے​

ہم دل میں بنا لیں گے چھوٹا سا صنم خانہ​

میں ہوش حواس اپنے اس بات پہ کھو بیٹھا​

تُو نے جو کہا ہنس کے یہ ہے میرا دیوانہ​

پینے کو تو پی لوں گا پر عرض ذرا سی ہے​

اجمیر کا ساقی ہو، بغداد کا مے خانہ​

کیا لطف ہو محشر میں شکوے میں کیے جاؤں​

وہ ہنس کے یہ فرمائیں دیوانہ ہے دیوانہ​

جی چاہتا ہے تحفے میں بھیجوں انہیں آنکھیں​

درشن کا تو درشن ہو، نذرانے کا نذرانہ​

بیدم میری قسمت میں سجدے ہیں اسی در کے​

چُھوٹا ہے نہ چُھوٹے گا سنگِ درِ جانانہ​


بیدم شاہ وارثی

No comments:

Post a Comment