Friday, 18 September 2020

بہشت میں بھی پہنچ کر مجھے قرار نہیں

 بہشت میں بھی پہنچ کر مجھے قرار نہیں

یہ کوئی اور جگہ ہے، مقامِ یار نہیں

کوئی بھی دیکھنے والوں میں ہوشیار نہیں

نگاہ ایک ہے، جلوں کا کچھ شمار نہیں

یہ کہہ کہ مجھ کو لیے جا رہا ہے شوقِ وجود

کہ آج سر نہیں، یا آستانِ یار نہیں

گھٹا ہے، برق ہے، ساقی ہے، مے ہے، یار نہیں

بہار تو ہے مگر، حاصلِ بہار نہیں

کبھی خیال کی حد میں تھا یار کا جلوہ

کہ اب ہے جلوہ ہی جلوہ، خیالِ یار نہیں

وہ کوہِ طور ہو یا سر زمینِ دل بیدم

جمالِ یار سے خالی کوئی دیار نہیں


بیدم شاہ وارثی

No comments:

Post a Comment