Friday, 18 September 2020

کچھ تو خودی کا رنگ ہے کچھ بے خودی کا رنگ

 کچھ تو خودی کا رنگ ہے کچھ بیخودی کا رنگ

دونوں کا امتزاج ہے یہ زندگی کا رنگ

آہیں بھرے گا کب کوئی پھولوں کو دیکھ کر 

آئے گا کب کسی میں بھلا دلبری کا رنگ 

اس میں ہے رنگ تیرے رخ بے مثال کا 

سب سے جدا ہو کیوں نہ مِری شاعری کا رنگ

پیش نگاہ میرے ہزاروں ہی رنگ تھے

دل نے کیا پسند مگر آپ ہی کا رنگ

یہ ہے فریب چشم کہ یہ دل کا واہمہ

ہر گل میں دیکھتی ہوں گلِ‌ کاغذی کا رنگ


مینو بخشی

No comments:

Post a Comment