کچھ تو خودی کا رنگ ہے کچھ بیخودی کا رنگ
دونوں کا امتزاج ہے یہ زندگی کا رنگ
آہیں بھرے گا کب کوئی پھولوں کو دیکھ کر
آئے گا کب کسی میں بھلا دلبری کا رنگ
اس میں ہے رنگ تیرے رخ بے مثال کا
سب سے جدا ہو کیوں نہ مِری شاعری کا رنگ
پیش نگاہ میرے ہزاروں ہی رنگ تھے
دل نے کیا پسند مگر آپ ہی کا رنگ
یہ ہے فریب چشم کہ یہ دل کا واہمہ
ہر گل میں دیکھتی ہوں گلِ کاغذی کا رنگ
مینو بخشی
No comments:
Post a Comment