Friday, 18 September 2020

ہوا دل کا حال ابتر تجھے یاد کرتے کرتے

 ہوا دل کا حال ابتر تجھے یاد کرتے کرتے

مِری جاں نکل نہ جائے کہیں آہ بھرتے بھرتے

مِری آرزوئے دل کو نئی زندگی ملی ہے

کہ ابھی ابھی بچے ہیں مِرے خواب مرتے مرتے

تجھے بھولنے کی خاطر بھی ہے ایک عمر لازم

کٹی ایک عمر میری تجھے یاد کرتے کرتے

ہوئی موت جب مقابل مجھے تم ہی یاد آئے

رہے تم ہی جان ارماں مِری جان مرتے مرتے

جو کسی نے مجھ سے پوچھی مِری آخری تمنا

تِرا نام ہی تو آیا مِرے لب پہ ڈرتے ڈرتے

یہ تھا کس کو علم یارو یہ بھلا کسے خبر تھی

کوئی جی اٹھے گا اک دن تِرے غم میں مرتے مرتے

اِسی خوف سے کہ تجھ کو کہیں بھول ہی نہ جاؤں

تجھے یاد کر رہی ہوں، اُسے یاد کرتے کرتے


مینو بخشی

No comments:

Post a Comment