Saturday, 16 April 2022

ختم ہوتا سفر نہیں لگتا اب دعا میں اثر نہیں لگتا

 ختم ہوتا سفر نہیں لگتا 

اب دعا میں اثر نہیں لگتا 

اس کی آنکھوں کو دیکھ رکھا ہے 

اب سمندر سے ڈر نہیں لگتا 

قافلہ جس طرح بھٹکتا ہے 

راہبر، راہبر نہیں لگتا 

تُو مِرے درد کو سمجھتا ہے 

تُو مجھے پیشہ ور نہیں لگتا 


ساجد رحیم

No comments:

Post a Comment