Saturday, 16 April 2022

موسم بھی نہیں بدلا منظر بھی نہیں بدلا

 موسم بھی نہیں بدلا، منظر بھی نہیں بدلا

اس شہر کو جانے کا، رستہ بھی نہیں بدلا

کشتی بھی نہیں بدلی، دریا بھی نہیں بدلا

ہم ڈوبنے والوں کا، جذبہ بھی نہیں بدلا

تم چھوڑ گئے جیسے، سب ویسا ہی رکھا ہے

بستر کی وہی چادر، تکیہ بھی نہیں بدلا

ہاں اب بھی بیٹھے ہیں، دیوار سے لگ کے ہم

گلیاں بھی وہی اپنی، کُوچہ بھی نہیں بدلا

تم کچھ تو نباہ دیتے، آخر کو محبت تھی

ہم نے تو عقیدت میں، لہجہ بھی نہیں بدلا

ہے شوق سفر ایسا، اِک عمر سے ہم نے

منزل بھی نہیں پائی، رستہ بھی نہیں بدلا


غلام محمد قاصر

No comments:

Post a Comment