Monday, 12 July 2021

کس قدر مختصر اداسی ہے

 کس قدر مختصر اُداسی ہے

یعنی بس عمر بھر اداسی ہے 

میں اسے جانتا ہوں بچپن سے 

اس قدر ناموَر اداسی ہے 

آ گیا امتحاں پرندے کا 

کہہ رہا ہے شجر؛ اداسی ہے 

ایک بھی شعر لکھ نہیں پایا 

ہائے، کیا بے ثمر اداسی ہے 

رزق، رشتے، نصیب، گھر، ایماں 

ٹھیک ہے سب، مگر اداسی ہے


ساجد رحیم

No comments:

Post a Comment