مِری دہائی سنے، بات پر توجہ دے
کسے پڑی ہے خرافات پر توجہ دے
نہ کر موازنہ اس عشق کا گزشتہ سے
پرانی چھوڑ، نئی گھات پر توجہ دے
تُو ناچتی ہوئی کٹھ پتلیوں سے بیر نہ رکھ
انہیں نچاتے ہوئے ہاتھ پر توجہ دے
یہاں سے بھاگ نکلتے ہیں روز دیوانے
امیرِ دشت! حوالات پر توجہ دے
وہ جا رہا ہے تُو ہنستے ہوئے نبھا رسمیں
گُلوں کو چھوڑ، مدارات پر توجہ دے
مِرے جواب مناسب دکھائی دیں گے تجھے
اگر تو اپنے سوالات پر توجہ دے
ساجد رحیم
No comments:
Post a Comment