Monday, 14 February 2022

کعبہ ہے کبھی تو کبھی بت خانہ بنا ہے

 کعبہ ہے کبھی تو کبھی بت خانہ بنا ہے

یہ دل بھی عجب چیز ہے کیا کیا نہ بنا ہے

جس روز سے دل آپ کا دیوانہ بنا ہے

ایک لفظ بھی نکلا ہے تو افسانہ بنا ہے

یہ آج کا دن حشر کا دن تو نہیں یا رب

اپنا تھا جو کل تک وہی بے گانہ بنا ہے

تنکوں کا تو بس نام ہے سچائی یہی ہے

اک جہد مسلسل ہے جو کاشانہ بنا ہے

تخریب کے پردے میں ہی تعمیر ہے ساقی

شیشہ کوئی پگھلا ہے تو پیمانہ بنا ہے

تکمیل وفا ہوش میں ممکن ہی نہیں تھا

دیوانہ سمجھ بوجھ کے دیوانہ بنا ہے

دنیا میں کوئی مول نہ تھا شوق کا لیکن

قسمت ہے جو سنگ در جانانہ بنا ہے


عبدالطیف شوق

No comments:

Post a Comment