Monday, 14 February 2022

اک سفر پر اسے بھیج کر آ گئے

اک سفر پر اسے بھیج کر آ گئے

یہ گماں ہے کہ ہم جیسے گھر آ گئے

وہ گیا ہے تو خوشیاں بھی ساری گئیں

شاخِ دل پر خزاں کے ثمر آ گئے

لاکھ چاہو مگر پھر وہ رُکتے نہیں

جن پرندوں کے بھی بال و پر آ گئے

ہم تو رستے پہ بیٹھے ہیں یہ سوچ کر

جو گئے تھے اگر لوٹ کر آ گئے

اس سے مل کے بھی کب اس سے مل پائے ہم

بیچ میں خواہشوں کے شجر آ گئے

اس نے اس پار اپنا بسیرا کیا

ہم نے دریا کو چھوڑا ادھر آ گئے

ایک دشمن سے ملنے گئے تھے مگر

اک محبت کے زیرِ اثر آ گئے


صابر وسیم

No comments:

Post a Comment