Monday, 14 February 2022

قصہ ملال شب کا سنائیں گے اب کسےِ

؟ قصہ ملالِ شب کا سنائیں گے اب کسے

روٹھیں گے کس سے آپ منائیں گے اب کسے

تجھ کو ہی کر رہے تھے، تیری کال آ گئی

سکرین شارٹ لے کے دکھائیں گے اب کسے

دیکھےگا کون اب تِری زلفوں کی چھاؤں کو

چھت پر اشارہ کر کے بلائیں گے اب کسے

تم نے اجاڑ دی ہے یہ دنیا جو تھی مِری

بستی میں دل کی پھر سے بسائیں گے اب کسے

ایک ایک کر کے سارے ہی گُر آزما چکے

پھر سے فریب میں بھلا لائیں گے اب کسےِ

سب کچھ تو کھو چکے ہو محبت یقین بھی

ہم سے چھڑا کے ہاتھ ملائیں گے اب کسے

دیکھے گا کون اُن کی بھی جانب پلٹ کے اب

کس سے کریں گے ضد وہ ستائیں گے اب کسے

ان پر چڑھا ہے خوب زمانے کا رنگ آج

سنوریں گے کس لیے وہ لبھائیں گے اب کسے


عجیب ساجد

No comments:

Post a Comment