آدمی حالات سے جب تک نہ سمجھوتا کرے
غیر ممکن ہے کہ دھوکہ کھائے اور دھوکا کرے
ہم غریبوں کے لیے کچھ کم ہے دنیا کا عذاب
ہم غریبوں کے لیے وہ حشر بھی برپا کرے
یہ بھی کیا کم ہے کہ اپنے کفر پہ قائم ہیں لوگ
ورنہ ان حالات میں ایماں فقط سجدہ کرے
اس بھری دنیا میں اے معبود ایسا ایک شخص
جو کسی قیمت نہ اپنے آپ کا سودا کرے
آدمی ہونا کوئی آسان ہے، لیکن آدمی
کم سے کم ایسا تو ہو، جیسا کہے ویسا کرے
کون سے پارے میں ہے کہ آدمی بہر نجات
مہدئ موعود ہی کا راستہ دیکھا کرے
ظلم سے پورا تعاون، ظلم سے بھرپور جنگ
بول اس ماحول میں، میں کیا کروں؟ تو کیا کرے
ہاں، مگر اتنا تو کر سکتا ہے ہر صاحبِ ضمیر
قاتلوں پر اپنے اپنے خون کا دعویٰ کرے
وقت کے حاکم کو اک مجذوب نے دی ہے دعا
جا تجھے بھی ایک دن مجھ سا مِرا مولا کرے
جب دھڑلے سے نہ کہہ سکتا ہو خالد دل کی بات
کیا ضروری ہے کہ شاعر قافیہ گانٹھا کرے
خالد علیگ
No comments:
Post a Comment