Monday, 14 February 2022

آدمی حالات سے جب تک نہ سمجھوتا کرے

 آدمی حالات سے جب تک نہ سمجھوتا کرے

غیر ممکن ہے کہ دھوکہ کھائے اور دھوکا کرے

ہم غریبوں کے لیے کچھ کم ہے دنیا کا عذاب

ہم غریبوں کے لیے وہ حشر بھی برپا کرے

یہ بھی کیا کم ہے کہ اپنے کفر پہ قائم ہیں لوگ

ورنہ ان حالات میں ایماں فقط سجدہ کرے

اس بھری دنیا میں اے معبود ایسا ایک شخص

جو کسی قیمت نہ اپنے آپ کا سودا کرے

آدمی ہونا کوئی آسان ہے، لیکن آدمی

کم سے کم ایسا تو ہو، جیسا کہے ویسا کرے

کون سے پارے میں ہے کہ آدمی بہر نجات

مہدئ موعود ہی کا راستہ دیکھا کرے

ظلم سے پورا تعاون، ظلم سے بھرپور جنگ

بول اس ماحول میں، میں کیا کروں؟ تو کیا کرے

ہاں، مگر اتنا تو کر سکتا ہے ہر صاحبِ ضمیر

قاتلوں پر اپنے اپنے خون کا دعویٰ کرے

وقت کے حاکم کو اک مجذوب نے دی ہے دعا

جا تجھے بھی ایک دن مجھ سا مِرا مولا کرے

جب دھڑلے سے نہ کہہ سکتا ہو خالد دل کی بات

کیا ضروری ہے کہ شاعر قافیہ گانٹھا کرے


خالد علیگ

No comments:

Post a Comment