Saturday, 15 May 2021

روٹھے ہیں ہم سے دوست ہمارے کہاں کہاں

 روٹھے ہیں ہم سے دوست ہمارے کہاں کہاں

ٹوٹے ہیں زندگی کے سہارے کہاں کہاں

دنیا کی بازگشت میں اپنی ہی ہے صدا

ایسے میں کوئی تجھ کو پکارے کہاں کہاں

کعبے میں تھا سکوں نہ کلیسا میں چین تھا

تجھ سے بچھڑ کے دن یہ گزارے کہاں کہاں

تُو تھا رگِ گلو سے زیادہ قریب تر

ڈھونڈھ آئے تجھ کو دید کے مارے کہاں کہاں

تارے کہیں ہیں پھول کہیں ہیں گہر کہیں

بکھرے ہوئے ہیں اشک ہمارے کہاں کہاں

شمع بھی مضطرب ہے پتنگا بھی مضطرب

پہنچے ہیں سوز غم کے شرارے کہاں کہاں

فرصت ملے کبھی تو شب غم سے پونچھنا

ٹوٹے ہیں چشم شوق سے تارے کہاں کہاں


عبدالطیف شوق

No comments:

Post a Comment