Saturday, 15 May 2021

ذرا نگاہ اٹھاؤ کہ غم کی رات کٹے

 ذرا نگاہ اٹھاؤ کہ غم کی رات کٹے

نظر نظر سے ملاؤ کہ غم کی رات کٹے

اب آ گئے ہو تو میرے قریب آ بیٹھو

دوئی کے نقش مٹاؤ کہ غم کی رات کٹے

شبِ فراق ہے شمعِ امید لے آؤ

کوئی چراغ جلاؤ کہ غم کی رات کٹے

کہاں ہیں ساقی‌ و مطرب کہاں ہے پیر حرم

کہاں ہیں سب یہ بلاؤ کہ غم کی رات کٹے

کہاں ہو مے کدے والو؟ ذرا ادھر آؤ

ہمیں بھی آج پلاؤ کہ غم کی رات کٹے

نہیں کچھ اور جو ممکن تو یار شعلہ کی

کوئی غزل ہی سناؤ کہ غم کی رات کٹے


دوارکا داس شعلہ

No comments:

Post a Comment