Tuesday, 18 January 2022

بت یہاں ملتے نہیں ہیں یا خدا ملتا نہیں

 بت یہاں ملتے نہیں ہیں یا خدا ملتا نہیں

عزم مستحکم تو ہو دنیا میں کیا ملتا نہیں

ہم سفیران جنوں یوں ہم سے آگے بڑھ گئے

قافلہ کیا ہے غبار قافلہ ملتا نہیں

اپنی صورت دیکھنا ہو اپنے دل میں دیکھیئے

دل سا دنیا میں کوئی بھی آئنہ ملتا نہیں

دے دیا ہے آپ کو دل اب حفاظت کیجیۓ

ہر خزانے میں یہ لعل بے بہا ملتا نہیں

ڈھونڈھتا پھرتا ہے مجھ کو کیوں فریب رنگ و بو

میں وہاں ہوں خود جہاں اپنا پتہ ملتا نہیں 


عبدالطیف شوق

No comments:

Post a Comment