نکالے جا چکے خلد بریں سے
کہاں جائیں نکل کر اب زمیں سے
خمیر اٹھا ہے میرا جس زمیں سے
تمہارا بھی تعلق ہے وہیں سے
عدو کا خوف اب کوئی نہیں ہے
بس اک دھڑکا ہے مار آستیں سے
مِرے جذبوں کی یہ جادوگری ہے
لہو ٹپکے ہے چشم سرمگیں سے
تِری مُٹھی میں ہے تقدیر عالم
صحیفہ اب نہ اترے گا کہیں سے
مِری رفعت پہ حیراں ہیں فرشتے
مجھے نسبت ہے ختم المرسلیںؐ سے
ہم اس کی بزم میں جب آ گئے پھر
علاقہ کیا رہا دنیا و دیں سے
ہے سجدے کا نشاں مُہر منور
شعائیں پھوٹی پڑتی ہیں جبیں سے
کہاں آپ اور کہاں عرقِ ندامت
"پسینہ پونچھیۓ اپنی جبیں سے"
فرزانہ اعجاز
No comments:
Post a Comment