Tuesday, 18 January 2022

نکالے جا چکے خلد بریں سے

 نکالے جا چکے خلد بریں سے

کہاں جائیں نکل کر اب زمیں سے

خمیر اٹھا ہے میرا جس زمیں سے

تمہارا بھی تعلق ہے وہیں سے

عدو کا خوف اب کوئی نہیں ہے

بس اک دھڑکا ہے مار آستیں سے

مِرے جذبوں کی یہ جادوگری ہے

لہو ٹپکے ہے چشم سرمگیں سے

تِری مُٹھی میں ہے تقدیر عالم

صحیفہ اب نہ اترے گا کہیں سے

مِری رفعت پہ حیراں ہیں فرشتے

مجھے نسبت ہے ختم المرسلیںؐ سے

ہم اس کی بزم میں جب آ گئے پھر

علاقہ کیا رہا دنیا و دیں سے

ہے سجدے کا نشاں مُہر منور

شعائیں پھوٹی پڑتی ہیں جبیں سے

کہاں آپ اور کہاں عرقِ ندامت

"پسینہ پونچھیۓ اپنی جبیں سے"​


فرزانہ اعجاز

No comments:

Post a Comment