صعوبتوں کا سفر ہے، سفر تمام تو ہو
ٹھہر بھی سکتا ہوں لیکن کوئی مقام تو ہو
جُھلس رہا ہے بدن تو جُھلستے رہنے دے
طلسم دُھوپ کا ٹُوٹے گا پہلے شام تو ہو
★حیات ذائقہ اپنا بدل بھی سکتی ہے ☆
تِرے لبوں کی حلاوت کا کوئی جام تو ہو
تجھے بھی جانا پڑے گا سراب کے پیچھے
کبھی ہماری طرح تو بھی تشنہ کام تو ہو
میں انتساب نظر تیرے نام کر دوں گا
تِری کتابِ📗تمنا میں میرا نام تو ہو
نور پیکر
No comments:
Post a Comment