تبھی تو راہ میں پتھر نہیں ہوتے
ہماری بزم میں مخبر نہیں ہوتے
حیاتِ کرب کا اپنا تصرف ہے
بڑھے یہ خرچ تو مضطر نہیں ہوتے
گرا کے ایک پَل میں کہہ گئیں موجیں
سنو کمسن! گھروندے گھر نہیں ہوتے
میں تشنہ تو فرشتہ ہو نہیں سکتا
یہ بادل کس لیے کوثر نہیں ہوتے
ہمارے پاس بیٹھو گے تو جانو گے
سبھی شاعر انا پرور نہیں ہوتے
حدِ ادراک کی تمثیل ہیں دریا
امڈ بھی جائیں تو ساگر نہیں ہوتے
ساگر حضورپوری
No comments:
Post a Comment