بس ایک میں
ایک پیچیدہ مگر اندھی گلی
چار سُو پھیلا ہوا گہرا اندھیرا اور میں
نیند میں چلنے کی عادت ہے عجب
سامنے کچھ بھی نہیں
بس ایک تاریکی کی منزل اور میں
چُرمُرائے خشک پتوں پر یونہی چلتا ہوا
ٹھوکریں کھاتا، سنبھلتا، بے صدا چلتا ہوا
شش جہت میں پھیلتا، بڑھتا ہوا، چلتا ہوا
خامشی در باز کرتی ہے کئی
پر اندھیری رات میں جس سمت دروازہ کُھلے تو
سامنے کچھ بھی نہیں، بس ایک میں
بے ارادہ، بے محابا نیند میں چلتا ہوا
رانا غضنفر عباس
No comments:
Post a Comment