Tuesday, 18 January 2022

دیکھو تو آس پاس ہی رکھا ہوا ہوں میں

دیکھو تو آس پاس ہی رکھا ہوا ہوں میں

سوچو تو ایک یاد میں ٹھہرا ہوا ہوں میں

جانے یہ کیسی رات ہے راہ صفا میں آج

سوچا ہے تجھ کو یار تو اجلا ہوا ہوں میں

اک روز ڈھونڈ لیں گے مجھے صاحبان وحی

اک لوح آسمان پہ لکھا ہوا ہوں میں

اس کو سمیٹ کر تو مرے پاس آ کبھی

جس نے کہا ہے تجھ سے کہ بکھرا ہوا ہوں میں

بس تھوڑا انتظار میں مہکوں گا ہر طرف

اب تک تو اپنے آپ میں مہکا ہوا ہوں میں

گر تو نہیں تو کون ہے یادوں میں مثل کن

آخر یہ کس کو سوچ کے پھیلا ہوا ہوں میں


منصور فائز

No comments:

Post a Comment