دیکھو تو آس پاس ہی رکھا ہوا ہوں میں
سوچو تو ایک یاد میں ٹھہرا ہوا ہوں میں
جانے یہ کیسی رات ہے راہ صفا میں آج
سوچا ہے تجھ کو یار تو اجلا ہوا ہوں میں
اک روز ڈھونڈ لیں گے مجھے صاحبان وحی
اک لوح آسمان پہ لکھا ہوا ہوں میں
اس کو سمیٹ کر تو مرے پاس آ کبھی
جس نے کہا ہے تجھ سے کہ بکھرا ہوا ہوں میں
بس تھوڑا انتظار میں مہکوں گا ہر طرف
اب تک تو اپنے آپ میں مہکا ہوا ہوں میں
گر تو نہیں تو کون ہے یادوں میں مثل کن
آخر یہ کس کو سوچ کے پھیلا ہوا ہوں میں
منصور فائز
No comments:
Post a Comment