Tuesday, 18 January 2022

کیوں آنکھ سے سرخی اب چھلکی ہوئی لگتی ہے

 کیوں آنکھ سے سرخی اب چھلکی ہوئی لگتی ہے

یہ نیند کی رانی بھی روٹھی ہوئی لگتی ہے

یادوں کا تسلسل ہے گھنگھور جدائی ہے

ساون کی طرح یہ بھی چھائی ہوئی لگتی ہے

سوجھے نہ مداوا کیوں خود میرے مسیحا کو

زخموں کی طرح چاہت رستی ہوئی لگتی ہے

آواز یہ کس نے دی پھر یاد یہ کون آیا

بے تابئ دل کچھ کچھ سنبھلی ہوئی لگتی ہے

گزری ہے گلابوں کو دامن میں خزاں بھر کے

ہر شاخ چمن لیکن مہکی ہوئی لگتی ہے

بازار محبت کے تاجر ہیں ستم پیشہ

اے بانو تِری قیمت لگتی ہوئی لگتی ہے


صائمہ بانو بخاری

No comments:

Post a Comment