Monday, 24 August 2020

اک تماشہ ہے تری خلد سے آیا ہوا شخص

اک تماشا ہے تِری خُلد سے آیا ہوا شخص
ہو گیا تجھ سے خفا، تیرا بنایا ہوا شخص
شوقِ کردار کشی نےتجھے رسوا رکھا
سرخرو اب بھی ہے بہتان لگایا ہوا شخص
حدِ پاتال سے بھی نیچے چلا جاتا ہے
خانۂ چشم کی کھڑکی سے گِرایا ہوا شخص
میری بستی کا محافظ بھی شکاری نکلا
دے رہا ہے یہ خبر جال میں آیا ہوا شخص
عمر بھر کی یہ کمائی ہے نہ لٹ جائے کہیں
لوٹ جائے نہ کہیں راہ پہ آیا ہوا شخص
آج وہ اپنا پتہ پوچھ رہا ہے سب سے
مرتدِ عشقِ بلا، دشت بھلایا ہوا شخص
شہر میں تجھ سے بڑا کوئی نہیں طاقتور
تُو ہے اغیار کی محنت سے بنایا ہوا شخص
اب نہ وہ خارِ مغیلاں ہے، نہ وہ آبلہ پا
جاۓ تو جائے کہاں عشق کمایا ہوا شخص
اب رہا ہو کے خلاؤں کی طرف گھورتا ہے
جرمِ ناکردہ میں رستے سے اٹھایا ہوا شخص
ایک پل اس کی جدائی کا تصور ہے محال
ایک مدت سے ہے وہ ساتھ نبھایا ہوا شخص
جو کبھی اور کسی کی نہیں چلنے دیتا
شہر کے سر پہ ہے یہ کس کا بٹھایا ہوا شخص
کاش، آ جائے زمیں پر تو بدل جائے حیات
کشتِ وجدان میں خوابوں سے اگایا ہوا شخص
ہم سے ملنا ہو تو اوقات میں رہ کر ملنا
ہم جھٹک دیتے ہیں سینے سے لگایا ہوا شخص

راغب تحسین

No comments:

Post a Comment