اوک میں سویا ہوا سال
تمہیں میری محبت کی قسم مجھ کو بتا دو نا
تمہارے پہلے پہلے ریشمی جذبوں کو
چھونے والا ساحر کون تھا
تمہارا استعارا کون تھا
تمہارے شہر میں مہکا ہوا کوئی اجنبی سورج
کوئی تارہ جو امکاں کے افق پر بارہا چمکا
تمہارے شہر سے گزرا ہوا کوئی بے کراں دریا
شکستہ لوح پر لکھا ہوا پھولوں کا موسم
یا کنار شب اندھیرے کو فنا کرتا ہوا
اک ریشمی ہالا
کئی پُرکھوں سے جس نے نیند کو لوٹا
تمہارے برج کی وہ رقص کرتی آخری خواہش؟
بتا دو کون تھا؟
جس نے تمہارے زندگی بھر کے سوالوں کو
دعاؤں کے مہکتے سلسلوں کو
وقت کے دل پر سجانے کی قسم دی تھی
تمہیں میری محبت کی قسم مجھ کو بتا دو
وہ اشارہ کون تھا؟
جس نے تمہیں منزل کے پہلو میں
چمکتے آئینے دِکھلا دیئے تھے
جن میں تیری شکل رنگوں میں بدلتی تھی
کنارا کون تھا؟ جس کی ہواؤں نے
تمہیں اک اجنبی ساگر میں
گھل جانے کی خواہش دی
تمہیں میری محبت کی قسم
مجھ کو بتا دو نا
ابرار عمر
No comments:
Post a Comment