Sunday, 23 August 2020

تمہیں میری محبت کی قسم مجھ کو بتا دو نا

اوک میں سویا ہوا سال

تمہیں میری محبت کی قسم مجھ کو بتا دو نا
تمہارے پہلے پہلے ریشمی جذبوں کو
چھونے والا ساحر کون تھا
تمہارا استعارا کون تھا
تمہارے شہر میں مہکا ہوا کوئی اجنبی سورج
تمہارے حزن میں پلتا ہوا کوئی نرمگیں لمحہ
کوئی تارہ جو امکاں کے افق پر بارہا چمکا
تمہارے شہر سے گزرا ہوا کوئی بے کراں دریا
شکستہ لوح پر لکھا ہوا پھولوں کا موسم
یا کنار شب اندھیرے کو فنا کرتا ہوا
اک ریشمی ہالا
کئی پُرکھوں سے جس نے نیند کو لوٹا
تمہارے برج کی وہ رقص کرتی آخری خواہش؟
بتا دو کون تھا؟
جس نے تمہارے زندگی بھر کے سوالوں کو
دعاؤں کے مہکتے سلسلوں کو
وقت کے دل پر سجانے کی قسم دی تھی
تمہیں میری محبت کی قسم مجھ کو بتا دو
وہ اشارہ کون تھا؟
جس نے تمہیں منزل کے پہلو میں
چمکتے آئینے دِکھلا دیئے تھے
جن میں تیری شکل رنگوں میں بدلتی تھی
کنارا کون تھا؟ جس کی ہواؤں نے
تمہیں اک اجنبی ساگر میں
گھل جانے کی خواہش دی
تمہیں میری محبت کی قسم
مجھ کو بتا دو نا

ابرار عمر

No comments:

Post a Comment