بیگانگی دل کے افسانے کو کیا کہیۓ
اپنا نہ ہوا اپنا بے گانے کو کیا کہیۓ
اے مشعلِ زمِ دل، اے شمعِ حریمِ جاں
سب تجھ پہ تصدق ہیں پروانے کو کیا کہیۓ
آتے ہیں ستانے کو جاتے ہیں رلانے کو
اس آنے کو کیا کہیۓ اس جانے کو کیا کہیۓ
فُرقت میں جدھر دیکھو وحشت سی برستی ہے
جب گھر کا یہ عالم ہے ویرانے کو کیا کہیۓ
وہ روکے مِرا بیدم! دامن سے لپٹ جانا
اور ان کا یہ فرمانا؛ دیوانے کو کیا کہیۓ
بیدم شاہ وارثی
No comments:
Post a Comment