Wednesday, 4 November 2026

بھوکے بچوں کے نوالوں میں نظر آتی ہے

 بھُوکے بچوں کے نوالوں میں نظر آتی ہے

زندگی ہاتھ کے چھالوں میں نظر آتی ہے

اپنی اُنگلی سے زمانے کو نچانے والے

تیری دُنیا بھی وبالوں میں نظر آتی ہے

تیرے بارے میں جو سوچوں تو کبھی اے جاناں

تیری تمثیل غزالوں میں نظر آتی ہے

وہ جو رکھتا ہے مسِیحا کی طبیعت کا خیال

زندگی اُس کی اُجالوں میں نظر آتی ہے

شاخِ صندل پہ سیاہ ناگ کی صُورت دُنیا

کیوں میرے چاہنے والوں میں نظر آتی ہے

جانے کس بات کا عرفان ہُوا ہے اُس کو

وہ جو ہر وقت خیالوں میں نظر آتی ہے


عرفان شاہ نوری

محمد عرفان عبدالمناف پٹیل

No comments:

Post a Comment