کر کے اُلفت جتا رہا تھا وہ
کس قدر دُور جا رہا تھا وہ
اپنی اُونچائیوں کو پانے کو
مُجھ کو سِیڑھی بنا رہا تھا وہ
آج محفل میں مِرا ذِکر چلا
اپنی نظریں جھُکا رہا تھا وہ
آج پھر میری رُوح چھلنی تھی
زیر لب مُسکرا رہا تھا وہ
میں جو مصلُوب ساری عُمر رہا
پھر سے سُولی چڑھا رہا تھا وہ
پاس اس کے کوئی دلیل نہ تھی
صرف باتیں بنا رہا تھا وہ
رانا احمد شہید
No comments:
Post a Comment