اب کیسا گِلہ، اُن سے شکایت کیسی؟
لکھ دی ہے مِرے خُوں سے عبارت کیسی
ہیں رنج و غم و درد مجاور میرے
کیسا ہے کرم ان کا، عنایت کیسی
سر خم ہے یہاں صرف صداقت کی کمی ہے
یہ دَیر و حرم کیسے، عبادت کیسی
اب کیسا گِلہ، اُن سے شکایت کیسی؟
لکھ دی ہے مِرے خُوں سے عبارت کیسی
ہیں رنج و غم و درد مجاور میرے
کیسا ہے کرم ان کا، عنایت کیسی
سر خم ہے یہاں صرف صداقت کی کمی ہے
یہ دَیر و حرم کیسے، عبادت کیسی
بنا گیا ہے بیاباں کا باغباں مُجھ کو
رُلا گیا ہے ستم ظرف آسماں مجھ کو
مِلے ہیں اشک رواں نالہ و فُغاں فریاد
دیا ہے ہائے یہ سب تُو نے مہرباں مجھ کو
قفس نصیب ہوں، تنہائی ہے، اندھیرا ہے
ہر ایک سمت نظر آئے ہے دُھواں مجھ کو
بعد مُدت کے ہوا ایسی چلی ہے یارو
ان کی ہر بات مِرے جی کو لگی ہے یارو
امتزاج آہ و فغاں،۔ نالہ و فریاد کا ہے
زندگی درد کے سانچے میں ڈھلی ہے یارو
یہاں ہر سمت مِرے خُون کی گُلکاری ہے
یہ نہ بھُولو مِرے قاتل کی گلی ہے یارو