Showing posts with label اوشا شفق. Show all posts
Showing posts with label اوشا شفق. Show all posts

Wednesday, 4 November 2026

اب کیسا گلہ ان سے شکایت کیسی

 اب کیسا گِلہ، اُن سے شکایت کیسی؟

لکھ دی ہے مِرے خُوں سے عبارت کیسی

ہیں رنج و غم و درد مجاور میرے

کیسا ہے کرم ان کا، عنایت کیسی

سر خم ہے یہاں صرف صداقت کی کمی ہے

یہ دَیر و حرم کیسے، عبادت کیسی

Sunday, 2 March 2025

بنا گیا ہے بیاباں کا باغباں مجھ کو

بنا گیا ہے بیاباں کا باغباں مُجھ کو

رُلا گیا ہے ستم ظرف آسماں مجھ کو

مِلے ہیں اشک رواں نالہ و فُغاں فریاد

دیا ہے ہائے یہ سب تُو نے مہرباں مجھ کو

قفس نصیب ہوں، تنہائی ہے، اندھیرا ہے

ہر ایک سمت نظر آئے ہے دُھواں مجھ کو

Thursday, 4 May 2023

بعد مدت کے ہوا ایسی چلی ہے یارو

بعد مُدت کے ہوا ایسی چلی ہے یارو

ان کی ہر بات مِرے جی کو لگی ہے یارو

امتزاج آہ و فغاں،۔ نالہ و فریاد کا ہے

زندگی درد کے سانچے میں ڈھلی ہے یارو

یہاں ہر سمت مِرے خُون کی گُلکاری ہے

یہ نہ بھُولو مِرے قاتل کی گلی ہے یارو