تمام عمر کا اپنا حساب لکھوں گی
میں تیرے نام کی کوئی کتاب لکھوں گی
میں جلتی اڑتی ہوئی ریت کو بھی چھانوں گی
جو دشتِ ذات پہ ٹھہرے سحاب لکھوں گی
ہر ایک درد میں تم کو میں حوصلہ دوں گی
تمہاری مات کو بھی کامیاب لکھوں گی
اک ایک لفظ کو سینچوں گی میں محبت سے
کتاب دل میں تِرا انتساب لکھوں گی
تمام تذکرے ہوں گے یہاں محبت کے
کیا جو تُو نے کھبی اجتناب لکھوں گی
مجھے حیات کی لکھنی نہیں کوئی تلخی
سو پھول کلیوں کا سارا شباب لکھوں گی
شفقت حیات شفق
No comments:
Post a Comment