Thursday, 4 May 2023

تمام عمر کا اپنا حساب لکھوں گی

 تمام عمر کا اپنا حساب لکھوں گی

میں تیرے نام کی کوئی کتاب لکھوں گی

میں جلتی اڑتی ہوئی ریت کو بھی چھانوں گی

جو دشتِ ذات پہ ٹھہرے سحاب لکھوں گی

ہر ایک درد میں تم کو میں حوصلہ دوں گی

تمہاری مات کو بھی کامیاب لکھوں گی

اک ایک لفظ کو سینچوں گی میں محبت سے

کتاب دل میں تِرا انتساب لکھوں گی

تمام تذکرے ہوں گے یہاں محبت کے

کیا جو تُو نے کھبی اجتناب لکھوں گی

مجھے حیات کی لکھنی نہیں کوئی تلخی

سو پھول کلیوں کا سارا شباب لکھوں گی


شفقت حیات شفق

No comments:

Post a Comment