Thursday, 4 May 2023

ہر آنکھ آج میرے لیے اشکبار ہے

 ہر آنکھ آج میرے لیے اشکبار ہے

قاتل یہ میری فتح ہے یا تیری ہار ہے

جن کو وفا کے جرم میں ٹھکرا دیا گیا

ان بد نصیب لوگوں میں میرا شمار ہے

سوچا ہے اس کے در پہ کریں جا کے خودکشی 

ویسے بھی ہم پہ ان دنوں وحشت سوار ہے

نوچی تِرے خیال نے آنکھوں کی پُتلیاں

یادوں سے تیری یہ مِرا سینہ فگار ہے

پانے کی تجھ کو آخری کوشش کریں گے ہم

سب کچھ تو ویسے مرضئ پروردگار ہے

چلنا بھی پا برہنہ ہے وائے مصیبتا

اس راہِ عشق پہ جو بڑی خاردار ہے

تجھ کو ہو غم تو لاکھوں دلاسے کے واسطے

تُو مجھ کو دیکھ کون مِرا غمگسار ہے

 اس گور تنگ میں ہے اندھیرا تو کچھ ضرور 

لیکن سکون مجھ کو بہت میرے یار ہے


معراج نقوی

No comments:

Post a Comment