ہر آنکھ آج میرے لیے اشکبار ہے
قاتل یہ میری فتح ہے یا تیری ہار ہے
جن کو وفا کے جرم میں ٹھکرا دیا گیا
ان بد نصیب لوگوں میں میرا شمار ہے
سوچا ہے اس کے در پہ کریں جا کے خودکشی
ویسے بھی ہم پہ ان دنوں وحشت سوار ہے
نوچی تِرے خیال نے آنکھوں کی پُتلیاں
یادوں سے تیری یہ مِرا سینہ فگار ہے
پانے کی تجھ کو آخری کوشش کریں گے ہم
سب کچھ تو ویسے مرضئ پروردگار ہے
چلنا بھی پا برہنہ ہے وائے مصیبتا
اس راہِ عشق پہ جو بڑی خاردار ہے
تجھ کو ہو غم تو لاکھوں دلاسے کے واسطے
تُو مجھ کو دیکھ کون مِرا غمگسار ہے
اس گور تنگ میں ہے اندھیرا تو کچھ ضرور
لیکن سکون مجھ کو بہت میرے یار ہے
معراج نقوی
No comments:
Post a Comment