Friday, 5 March 2021

راہ کے پتھروں سے بھاری ہے

 راہ کے پتھروں سے بھاری ہے

ہم نے کیا زندگی گزاری ہے

رات الٹی پہن کے سوتا ہوں

ہجرتوں کا عذاب جاری ہے

ہم تو بازی لگا کے ہار چکے

دوستو اب تمہاری باری ہے

مجھ پہ پھولوں کا قرض ہے میں نے

زندگی شاخ سے اتاری ہے

سوچتا ہوں کہ تھک گیا ہوں میں

تیری جانب سفر بھی جاری ہے

یہ جو ہم تم کو بھول جاتے ہیں

اک تعلق کی استواری ہے

اب زمانہ بدل گیا ہے قیس

اب محبت بھی اختیاری ہے


سعید قیس

No comments:

Post a Comment