Thursday, 25 March 2021

کمال ضبط حرف معتبر تک آ گیا ہے

 کمالِ ضبط حرفِ معتبر تک آ گیا ہے

لہو بہتا ہوا قاتل کے گھر تک آ گیا ہے

یہ کیا آسیب سا دیوار و در تک آ گیا ہے

کہ سارا شہر اُٹھ کر رہگزر تک آ گیا ہے

عجب اک تشنگی سی لمحہ لمحہ بڑھ رہی ہے

غبارِ آب رفتہ رفتہ سر تک آ گیا ہے

تہی کاسہ تھا اور اب اوک کاسہ بن گئی ہے

مگر یاروں میں رہنے کا ہُنر تک آ گیا ہے


اشرف جاوید

No comments:

Post a Comment