کمالِ ضبط حرفِ معتبر تک آ گیا ہے
لہو بہتا ہوا قاتل کے گھر تک آ گیا ہے
یہ کیا آسیب سا دیوار و در تک آ گیا ہے
کہ سارا شہر اُٹھ کر رہگزر تک آ گیا ہے
عجب اک تشنگی سی لمحہ لمحہ بڑھ رہی ہے
غبارِ آب رفتہ رفتہ سر تک آ گیا ہے
تہی کاسہ تھا اور اب اوک کاسہ بن گئی ہے
مگر یاروں میں رہنے کا ہُنر تک آ گیا ہے
اشرف جاوید
No comments:
Post a Comment